حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کرگل، لداخ، 9 اکتوبر/ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ غلام علی مفیدی، مرکزی امام جمعہ کرگل، نے خطبۂ جمعہ میں معرفتِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، غیبتِ کبریٰ میں مؤمنین کی ذمہ داریوں، حقیقی انتظارِ ظہور اور خاندانی زندگی کی اصلاح پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام زمانہؑ سے حقیقی وابستگی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالے، حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور معاشرے میں عدل، دیانت داری اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے۔

حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل کے احاطے میں جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ کے زیرِ اہتمام منعقدہ نمازِ جمعہ کے پہلے خطبے میں انہوں نے معرفتِ امام زمانہؑ کو سعادتِ دنیا و آخرت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام کی معرفت محض زبانی عقیدت یا دعائے فرج پڑھنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے کردار، اعمال اور روزمرہ معاملات میں دینی تعلیمات کی پیروی کرے۔
انہوں نے غیبتِ کبریٰ کو ایمان، صبر، کردار اور وفاداری کی آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مؤمنین کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن مجید، تعلیماتِ اہلِ بیتؑ، معتبر دینی رہنمائی اور علمائے حق کی ہدایات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو صحیح راستے پر قائم رکھیں۔ امام زمانہؑ کی غیبت کو دینی ذمہ داریوں سے غفلت کا جواز نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ اس دوران اپنے اعمال کی اصلاح اور معاشرے کی بہتری کے لیے سنجیدہ کوشش ضروری ہے۔

حقیقی انتظار، عدل و انصاف کے قیام کے لیے عملی جدوجہد کا نام ہے
مولانا شیخ غلام علی مفیدی نے امام زمانہؑ کے ظہور کو عدل و انصاف کے قیام اور ظلم و ناانصافی کے خاتمے کی امید سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ انتظار مؤمنین کو مایوسی سے بچاتا اور حق پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ تاہم حقیقی انتظار کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عدل، سچائی، دیانت داری اور مظلوموں کی حمایت کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریکِ کربلا بھی دین کی حفاظت، حق کی حمایت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے۔ لہٰذا ائمۂ اہلِ بیتؑ سے حقیقی محبت اسی وقت بامعنی ہوسکتی ہے جب ان کی تعلیمات کو انفرادی کردار، معاشرتی روابط اور اجتماعی زندگی میں عملی طور پر اختیار کیا جائے۔
مرکزی امام جمعہ کرگل نے حقوق العباد کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی کا مال ناحق لینا، قرض ادا نہ کرنا، زمین پر قبضہ کرنا، کسی کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانا اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا دینی تعلیمات کے منافی ہے۔ محض ظاہری عبادات پر اکتفا کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ انسان اپنے معاملات، کمائی اور طرزِ عمل کا جائزہ لے اور جہاں کسی کی حق تلفی ہوئی ہو، وہاں اصلاح اور حق کی ادائیگی کی کوشش کرے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امام زمانہؑ کے ظہور سے متعلق عقائد اور دینی امور بیان کرتے وقت معتبر دلائل، تحقیق اور احتیاط سے کام لیا جائے۔ دینی عقائد کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب جذباتی ردِعمل یا توہین آمیز رویے کے بجائے علم، حکمت، دلیل اور اخلاق کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔
ازدواجی زندگی میں تفاہم، موافقت اور باہمی احترام ناگزیر ہیں
خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں شیخ غلام علی مفیدی نے نکاح، ازدواجی زندگی، خاندانی ذمہ داریوں اور بچوں کی تربیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے نکاح کو محبت، مودّت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ نکاح محض ایک سماجی رسم یا دو افراد کے ایک ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ باہمی احترام، وفاداری، تعاون اور ذمہ داری پر قائم ایک مقدس رشتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے میاں بیوی کے درمیان تفاہم اور موافقت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھنا، اختلافات کو تحمل سے سننا، باہمی مشورے سے مسائل حل کرنا اور ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا گھریلو زندگی کو پُرسکون اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان کے مطابق ازدواجی تنازعات کے اسباب میں غلط فہمیاں، غیر ضروری توقعات، مالی دباؤ، دوسروں کی مداخلت، عدم برداشت اور گفتگو کی کمی شامل ہوسکتی ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی غصے کے وقت نامناسب الفاظ سے گریز کریں، اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں اور ایک دوسرے کے جائز حقوق کا احترام کریں۔
انہوں نے شادی سے پہلے مناسب تحقیق، دین داری، اخلاق، کردار، ذمہ داری کے احساس اور باہمی موافقت کو اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نکاح کا فیصلہ سنجیدگی اور سمجھ داری کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ والدین اور سرپرستوں کو بھی شادی کے معاملات میں لڑکے اور لڑکی کی رائے، رضامندی اور مستقبل کو اہمیت دینی چاہیے اور جبر، غیر ضروری دباؤ اور غیر حقیقی توقعات سے اجتناب کرنا چاہیے۔

بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری ہے
مولانا شیخ غلام علی مفیدی نے خاندانی استحکام میں والدین، بزرگوں اور بچوں کے حقوق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک صالح خاندان کی بنیاد محبت، انصاف، احترام اور حسنِ اخلاق پر قائم ہوتی ہے۔ گھر کے بزرگوں کے تجربات سے استفادہ کرنا، والدین کا احترام کرنا اور بچوں کی مناسب تربیت کرنا ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ والدین کے عملی کردار کا بھی ان کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر گھر میں سچائی، نماز، دیانت داری، صبر، احترام اور محبت کا ماحول ہو تو بچوں کی اخلاقی و دینی نشوونما بہتر انداز میں ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس مسلسل جھگڑے، بدزبانی، جھوٹ اور ناانصافی بچوں کی تربیت پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں، ان کے سوالات کا مناسب جواب دیں اور انہیں دینی تعلیمات، انسانی ہمدردی، اچھے اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آشنا کریں۔ اسی طرح گھر کے تمام افراد کے ساتھ انصاف، نرمی اور احترام کا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
شادی بیاہ میں سادگی اور غیر ضروری اخراجات سے اجتناب کی ضرورت
مرکزی امام جمعہ کرگل نے شادی بیاہ میں غیر ضروری رسم و رواج، دکھاوے، مالی مقابلہ آرائی اور بے جا اخراجات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے بعض خاندانوں کے لیے مالی مشکلات پیدا کرتے اور نوجوانوں کی شادی میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، غیر ضروری مطالبات سے اجتناب کیا جائے اور نوجوانوں کے لیے باعزت اور ذمہ دارانہ انداز میں نئی زندگی شروع کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ شادی کا اصل مقصد ایک پاکیزہ، مستحکم اور بااخلاق خاندان کی تشکیل ہے، نہ کہ دولت اور سماجی حیثیت کا مظاہرہ۔ سادگی، اعتدال اور باہمی تعاون کے ذریعے شادی کے اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں اور خاندانوں کو غیر ضروری مالی دباؤ سے بچایا جاسکتا ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے مؤمنین کو اپنی انفرادی، اجتماعی اور خاندانی زندگی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ امام زمانہؑ کے حقیقی منتظرین بننے کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں محبت و احترام، معاملات میں دیانت داری، معاشرے میں انصاف اور بچوں کی تربیت میں دینی و اخلاقی اقدار کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کو معرفتِ امام زمانہؑ، محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام، تقویٰ، اخلاص اور حق پر ثابت قدمی عطا فرمائے، خاندانوں کو محبت و سکون کا مرکز بنائے، میاں بیوی کے درمیان الفت و محبت قائم رکھے، نوجوان نسل کے لیے نکاح کے راستے آسان فرمائے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔










آپ کا تبصرہ